بھٹکل:16/ستمبر (ایس اؤنیوز)بلدیہ دفتر پر پتھراؤ ہو کر دو دن گزر نے کے بعد بھی ملازمین دفتر پہنچنے میں خوف محسوس کررہے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ بلدیہ کے تمام ملازمین اتوار کو اپنی میٹنگ کرتےہوئے دفتر میں حاضری کے متعلق کوئی فیصلہ لیں گے۔ بلدیہ کے صفائی کرنے والے لوگ بھی کاپر واپسں نہیں لوٹے ہیں ، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیر نظر آئے۔ معاملے کو لے کر بلدیہ مزدوروں نے ساحل آن لائن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر سے بات چیت کی ہے اور ہمیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے امید جتائی ہے کہ پیر تک مسئلہ حل ہوجائے گا۔
شہر میں پولس کی بھاری نفری: شہر کے حالات کو دیکھتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ کی ہدایات پر شہر میں ہر طرح سے امن و امان کو بحال رکھنے کے لئے مختلف مقامات سے پولس عملہ گروہ در گروہ بھٹکل پہنچ رہاہے۔
آئی جی پی ،ایس پی ، ایڈیشنل ایس پی سمیت مختلف اضلاع سے 5ڈی وائی ایس پی ، 20سی پی آئی ، 8کے ایس آرپی ، 5ڈی آر بشمول قریب ہزار پولس کانسٹبل شہر کی حفاظت کےلئے تعینات کئے گئے ہیں۔ ساحلی پٹی کے دیگر مقامات پر ہوئی ہنگامہ خیزی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کئے جانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے پورا زور لگا رہی ہے کہ میونسپالٹی دکانوں کے کرایہ داروں کے معاملے کو شرپسند عناصر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش نہ کریں اس سلسلے میں کڑی نگرانی کرنے کے لئے محکمہ پولس کو ہدایات دینے کی ذرائع نے خبر دی ہے۔ وہیں پولس کو واضح ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ بھٹکل میں دوبارہ پتھراؤ، مار دھاڑ جیسے واقعات ہوتے ہیں تو کتنی بھی اہم شخصیت کیوں نہ ہو بغیر کسی رعایت کے سخت قانونی کارروائی کرنے کی جائے، بتایا گیا ہے کہ اگر ہنگامہ خیزی کو روکنے میں پولس ناکام ہوتی ہے تو متعلقہ پولس افسران کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔